1 جون 2012 - 19:30

خطے میں صہیونی ریاست کے تشدد کے نۓ مرحلے اور غزہ پر اس حکومت کے فضائی حملے میں چار فلسطینی شہری شہید ہو گۓ ہیں۔

ابنا: غزہ پٹی میں ایمرجنسی کمیٹی کے ترجمان ادھم ابوسلمہ نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کے لڑاکا طیاروں کے حملے میں متعدد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب صہیونی ریاست  کے لڑاکا طیاروں نے خان یونس شہر خاص طور پر اس شہر کے مشرقی علاقے پر پروازیں کی ہیں۔ اور صہیونی ریاست کے ٹینک بھی غزہ پٹی کی سرحدوں پر تعینات ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء فلسطین کی عوامی استقامت کمیٹی کے ترجمان ابو مجاہد نے صہیونی فوج کے حالیہ حملوں کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوۓ کہا ہے کہ فلسطینی استقامت صہیونی ریاست کی جانب سے کی جانے والی ہر طرح کی حماقت کامنہ توڑ جواب دے گی۔

واضح رہے کہ صہیونی وزیر جنگ ایہود باراک نے فلسطینیوں پر حملوں میں شدت پیدا کرنے کی دھمکی دی ہے۔

فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے حملوں کی شدت کے ساتھ ساتھ لبنان کے خلاف بھی اس حکومت کے جارحانہ اقدامات کا دائرہ وسیع تر ہوا ہے۔

صہیونی ریاست کے وحشیانہ حملات کے اس نۓ مرحلے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ حکومت خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر کے خطے میں اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

حقیقت یہ ہےکہ صہیونی ریاست کی بنیاد ہی توسیع پسندی ، قبضے ، تشدد ، قتل عام اور جنگ پسندی پر استوار ہے۔ صہیونی ریاست خطے میں اپنے توسیع پسندانہ مفادات کے سوا کسی اور چیز کے بارے میں سوچتی تک نہیں ہے۔

اور وہ ہمیشہ اپنے مفادات کے حصول کے لۓ موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب سے یہ ناجائز حکومت قائم ہوئي ہے تب سے مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے اور یہ خطہ مختلف اوقات میں جنگوں کا شکار رہا ہے۔ صہیونی ریاست ایسے عالم میں جنگ کی دھمکیاں دے رہی کہ جب اسے اقتصادی مشکلات اور فوجیوں کی نافرمانی کے بحران کا سامنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں فلسطینی اور لبنانی عوام سے شکست کھانے کے بعد اس ناجائز حکومت میں اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کا دم باقی نہیں رہ گیا ہے۔ ان تمام امور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست کی دھمکیوں کی حیثیت نفسیاتی جنگ سے زیادہ کی نہیں ہے۔

فلسطین اور لبنان کی استقامت کی جانب سے منہ توڑ جوابی حملے کے انتباہ کے بعد صہیونی ریاست میں اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی جرات باقی نہیں رہی ہے اور وہ فوجی اقدامات کے ذریعے صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ البتہ صہیونی ریاست کے انہی اقدامات کی وجہ سے خطےکا ماحول کشیدہ ہوچکا ہے اور روزانہ فلسطینیوں کو شہید کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب چونکہ صہیونی ریاست کے اقدامات ہمیشہ جنون آمیز ہوتے ہیں اس لۓ اس ناجائز حکومت کی جانب سے ہر طرح کی مہم جوئی کا امکان پایا جاتا ہے۔ ان حالات میں لبنان اور فلسطین کے حکام نے صہیونیت مخالف استقامت جاری رہنے پر زور دیتے ہوۓ قومی آشتی کے مذاکرات کے ذریعے قومی اتحاد کی برقراری اور دشمنوں کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے کے لۓ فلسطینیوں اور لبنانیوں کی استقامت کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے حالیہ دنوں میں مختلف مناسبتوں سے جو تقریریں کی ہیں ان سے بھی اس ضرورت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔.......

/169